اقرار الحسن کے ٹویٹس پر مشہور شخصیات کی حمایت جبکہ سوشل میڈیا صارفین کی مخالفت اور معذرت کا مطالبہ۔

ٹیلیویژن کے مشہور میزبان سید اقرار الحسن کی حالیہ ٹویٹس نے سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں کو ‘ملک مخالف’ ہونے کی بنیاد پر مشتعل کردیا ہے۔ پروگرام سرعام کے میزبان نے ایک ٹویٹ شیئر کیا جس میں ہندوستان کو دنیا کا ‘ویکسین مرکز’ قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے ساتھ ساتھ پاکستان اور ہندوستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ ان کے اس فعل کی وجہ سے، سوشل میڈیا صارفین ان پر غداری کا الزام لگا رہے ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ دوسرے ممالک خصوصا پاکستان کے جنوبی ایشیائی ہم منصبوں کے مقابلہ میں پاکستانی پاسپورٹ اور روپیہ کس قدر کم قیمت کا حامل ہے۔

ان ٹویٹس کو چند سوشل میڈیا صارفین نے کچھ زیادہ پسند نہیں کیا۔ کچھ نے تو اسے غداری قرار دیا اور جلد ہی #ApologiseToTheCountry ہیش ٹیگ نے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنا شروع کردیا۔

مشہور شخصیات نے اقرار الحسن کے ان خیالات پر ان کا دفاع کیا:

تاہم، انھیں مشہور ہستیوں کی حمایت ملی جنھوں نے ایک اور ہیش ٹیگ #WeSupportIqrar کا ٹرینڈ شروع کردیا۔ ان کے حامیوں کی کچھ ٹویٹس حسب ذیل ہیں۔

اقرار کے قریبی دوست، عمران اشرف نے بھی ان کی حمایت میں ٹویٹ کیا ہے۔

ہمارے قارئین کی اس بارے میں کیا رائے ہے اور وہ کس ہیش ٹیگ کو سپورٹ کرنا چاہیں گے، ہمیں نیچے کمنٹس میں بتائیں۔

تبصرہ کریں

%d bloggers like this: