ترکی نے نئی پرائیویسی پالیسی پر واٹس ایپ اور فیس بک کے خلاف عدم اعتماد کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔

نئے سال کے آغاز پر واٹس ایپ نے اپنی پرائیویسی پالیسی کو اپ ڈیٹ کیا۔ ایپ کو کھولنے کے بعد صارفین کو ایک پاپ اپ میسج کے ذریعہ مطلع کیا گیا تھا کہ اب ان کا ڈیٹا 8 فروری سے فیس بک اور دوسری کمپنیوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ فیس بک کی بدنام زمانہ تاریخ کی وجہ سے اس اپ ڈیٹ کے بعد بہت سے لوگوں نے تنقید کی اور متبادل پیغام رسانی کی ایپس جیسے سگنل اور ٹیلیگرام پر نقل مکانی شروع کردی۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے مائیکروسافٹ بھی اس میدان میں داخل ہو گیا اور صارفین کو فیس بک کی ملکیت والی واٹس ایپ کی جگہ اسکائپ استعمال کرنے کا مشورہ دے دیا۔

تازہ ترین معلومات میں، ترکی نے اب اس نئی پرائیویسی پالیسی کے بارے میں فیس بک اور واٹس ایپ پر عدم اعتماد کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ بلومبرگ کی خبر ہے کہ:

ترکی کے اینٹی ٹرسٹ بورڈ نے فیس بک انکارپوریشن اور اس کی میسجنگ سروس واٹس ایپ انکارپوریشن کی تحقیقات کا آغاز نئی استعمال کی شرائط پر کیا جس کی وجہ سے پرائیویسی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
[…]
ریگولیٹر نے یہ بھی کہا کہ وہ اس طرح کی شرائط پر عمل درآمد روک رہا ہے۔ بیان کے مطابق، نئی شرائط کے نتیجے میں "فیس بک کے استعمال کے لئے واٹس ایپ کے ذریعہ مزید ڈیٹا اکٹھا کرکے اس کو پراسیس کیا جائے گا اور اس کا استعمال کیا جائے گا”۔

تاہم، شکیوں کو اس بات پر تشویش ہے کہ آیا یہ تحقیقات حکومت کی طرف سے غیر اخلاقی مواد کو روکنے کے لئے ایک اور قدم ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردوان گذشتہ دو سالوں سے ” غیر اخلاقی مواد کے خاتمے” کی غرض سے سوشل میڈیا پر حکومت کے کنٹرول کو سخت کررہے ہیں۔ پچھلے سال جولائی میں، انہوں نے اپنی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے ممبروں سے کہا، "کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم یوٹیوب، ٹویٹر اور نیٹ فلکس جیسے سوشل میڈیا کے خلاف کیوں ہیں؟ اس طرح کی بدکاری کو مٹانا ہے۔” آیا یہ واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی پر حقیقی تنقید ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔ تاہم، آنے والے مہینوں میں تحقیقات آگے بڑھنے کے بعد معاملات مزید واضح ہوتے جائیں گے۔

ماخذ: بلومبرگ

تبصرہ کریں

%d bloggers like this: