مائیکروسافٹ نے بھی واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی کا مذاق اڑایا اور اسکائپ استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔

واٹس ایپ نے حال ہی میں اپنی پرائیویسی پالیسی کو اپ ڈیٹ کیا جس میں صارفین کو مطلع کیا گیا ہے کہ ان کا ڈیٹا فیس بک اور دیگر کمپنیوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ حالانکہ لوگ فی الحال اس کو رد  کرسکتے ہیں لیکن 8 فروری کے بعد اس کو قبول کرنا ایک لازمی ضرورت ہو جائے گا۔ اس اقدام پر واٹس ایپ کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ جب فیس بک نے سن 2014 اس ایپ کو حاصل کیا تھا تو یہ کہا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوگی۔ ٹیسلا کمپنی کے مشہور ایلون مسک سمیت اہم شخصیات اب عوام کو سگنل مسیجنگ ایپ کی طرف رخ کرنے کی تاکید کر رہی ہیں، اس پلیٹ فارم کے ساتھ نئی رجسٹریشنوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اب، مائیکروسافٹ کی سوشل میڈیا ٹیم نے بھی واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی کا خوب مذاق اڑایا ہے اور صارفین کو اسکائپ پر منتقل ہونے کی سفارش کی ہے۔

آفیشل اسکائپ اکاؤنٹ کی ایک ٹویٹ میں مائیکروسافٹ نے بتایا ہے کہ وہ صارفین کے ذاتی ڈیٹا کو نجی رکھتا ہے اور تیسرے فریق کے ساتھ اس کا اشتراک نہیں کرتا:

مزید برآں، ٹویٹ میں دی گئی یو آر ایل مائیکروسافٹ کی رازداری کی پالیسی کے بیان کی طرف لے جاتی ہے، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ فرم صارفین سے کس طرح کا ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے اور اسے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک لمبا صفحہ ہے جسے زیادہ تر لوگ نظرانداز کرتے ہیں، لیکن یہ تجویز کی جاتی ہے کہ اگر آپ رازداری کے خدشات کے سبب واقعی واٹس ایپ سے ہجرت کرنے پر غور کررہے ہیں تو آپ اس ضرور پڑھیں۔

تمام ردعمل کے باوجود، ایسا ہونا مشکل لگتا ہے کہ واٹس ایپ اپنے فیصلے کو واپس لے لے گا۔ فرم کو شاید اس قسم کی آراء کا پہلے سے ہی اندازہ تھا اور امید تھی کہ چند ہفتوں کے اندر اس کا غلغلہ کم ہوجائے گا۔ لیکن اس کے برعکس صارفین نے بڑی تعداد میں دوسرے متبادل میسیجنگ پلیٹ فارمز کی طرف رخ کرنا شروع کردیا ہے۔

2 thoughts on “مائیکروسافٹ نے بھی واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی کا مذاق اڑایا اور اسکائپ استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔

تبصرہ کریں

%d bloggers like this: