متحدہ عرب امارات کا ارادہ ہے کہ مارچ کے آخر تک نصف آبادی کو کوویڈ-19 کی ویکسینیشن لگا دی جائے۔

متحدہ عرب امارات کی آٹھ فیصد آبادی کو کوویڈ-19 کے خلاف پہلے ہی ویکسینیشن کا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے اور امارات اگلے چند مہینوں میں اس میں ڈرامائی انداز میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ خبر نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این سی ای ایم اے) کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ 820،000 سے زائد ویکسین پہلے ہی لگائے جاچکے ہیں اور آبادی کی حفاظت کے لئے پرعزم اہداف طے کیے گئے ہیں۔

این سی ای ایم اے نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا مقصد سال کی پہلی سہ ماہی کے آخر تک 50 فیصد آبادی کو ویکسینیشن لگانا ہے۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ‘معاشرے کے زیادہ سے زیادہ افراد کو قطرے پلانا’ ملک کا مقصد ہے کہ ‘ویکسینیشن کے نتیجے میں مطلوبہ قوت مدافعت تک رسائی حاصل ہو گی، جو کیسز کی تعداد کو کم کرنے اور بیماری پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوسکے گی’۔

ابھی، متحدہ عرب امارات عمر رسیدہ افراد اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد سمیت 18 سال سے کم عمر افراد اور کمزور لوگوں کی ویکسینیشن کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ ویکسین کے دوسرے ٹیکے کے اٹھائیس دن بعد لوگوں کو قرنطین کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی، لیکن انھیں ماسک پہننے کے ساتھ ساتھ معاشرتی فاصلہ پھر بھی برقرار رکھنا پڑے گا۔

این سی ای ایم اے نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ویکسین لینا اختیاری ہے، تاہم شہریوں کی آبادی کے تحفظ کے لئے ویکسین پلانے کی ترغیب دی جاتی رہے گی۔

ابوظہبی میں "ویکسینیٹ ہونے کا انتخاب کریں” کی مہم کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو کوویڈ-19 کے خلاف ویکسین لگانے پر غور کرنے کی ترغیب دی جائے۔

اگر آپ کا ویکسین لگوانے کا ارادہ ہے تو آپ یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ ابوظہبی ، دبئی اور متحدہ عرب امارات کے باقی حصوں میں ویکسین کیسے لگوا سکتے ہیں۔

تبصرہ کریں

%d bloggers like this: