پشاور میں جعلی آن لائن انویسٹمنٹ کمپنی نے معصوم عوام کی 5 ارب روپے سے بھی زیادہ رقم لوٹ لی۔

ایک آن لائن انویسٹمنٹ کمپنی نے کے پی کے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو 5 ارب روپے سے بھی زیادہ رقم کو چونا لگایا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، زیربحث متنارع کمپنی، پی سلیش (PSlash) نے رواں سال جنوری میں پشاور کے ڈینز ٹریڈ سنٹر میں ایک دفتر قائم کیا تھا۔ کمپنی نے ریئل اسٹیٹ کے علاوہ ڈیجیٹل اور غیر ملکی کرنسیوں کے سرمایہ کاروں کو 13 فیصد تک منافع واپس کرنے کا آسرا دے کر بڑی تعداد میں فنڈز اکٹھے کیے۔

تاہم، 20 نومبر کو کمپنی کی ویب سائٹ بظاہر آف لائن ہوگئ تھی اور اس پر ایک اطلاع شائع ہوئی تھی جس میں لکھا گیا تھا کہ "سسٹم ہیک ہوگیا ہے۔”

اس دھوکہ دہی کا شکار افراد، جن میں سے بہت سے لوگوں نے اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی کھو دی ہے، نے کہا ہے کہ وہ 20 نومبر سے کمپنی کے نمائندوں سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ کمپنی نے اپنا نام تین بار ‘ارن بٹ کوائن’ سے بدل کر پے سلیش اور آخر میں پی سلیش کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے ایجنٹوں اور انتظامی عملے نے ہمیشہ انھیں یقین دہانی کرائی کہ کمپنی ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہے۔

متاثرہ افراد میں سے ایک کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل نے کہا ہے کہ پی سلیش کے خلاف مشکوک سرگرمیوں کی پہلی شکایت 24 اگست کو ایف آئی اے میں درج کی گئی تھی جبکہ دوسری شکایت 16 ستمبر کو پی ٹی اے میں درج کی گئی تھی۔ تاہم ایف آئی اے اور پی ٹی اے، پی سلیش کے خلاف بروقت کارروائی کرنے میں ناکام رہے جس کے نتیجے میں ایک لاکھ افراد اپنی محنت سے کمائی گئی رقم سے محروم ہوگئے۔

اگر ایجنسی اور ریگولیٹر نے دھوکہ دہی کرنے والی کمپنی کے خلاف بروقت کارروائی کی ہوتی تو پشاور میں اربوں روپے کا یہ گھوٹالہ نہ ہوا ہوتا۔

ایف آئی اے پشاور کے ایک سینئر عہدیدار نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس گھوٹالے کی مالیت ساڑھے پانچ ارب روپے کے قریب ہے۔ لیکن کچھ ماہ قبل باضابطہ شکایت موصول ہونے کے باوجود ایجنسی کی کارروائی میں ناکامی کے پیچھے اس کی وجہ بتانے سے انکار کردیا۔

اسی طرح، پی ٹی اے کے ترجمان نے بھی اعتراف کیا کہ ریگولیٹر کو ستمبر میں کمپنی کے خلاف شکایت موصول ہوئی تھی۔

تبصرہ کریں

%d bloggers like this: