اینڈرائیڈ 11 کی نئی رازداری اور سیکیورٹی کی خصوصیات کے بارے میں اہم معلومات جس کا آپ کو پتہ ہونا چاہئے۔

گوگل نے بنیادی طور پر اینڈرائیڈ  11 کے ساتھ گفتگو (conversations) اور رازداری (privacy) پر توجہ دی ہے۔ او ایس بہت سی چھوٹی لیکن اہم خصوصیات اور تبدیلیوں کے ساتھ آیا ہے جس میں رازداری کو بہتر بنانے اور صارف کے ڈیٹا کو مضحکہ خیز ایپس اور گیمز سے محفوظ رکھنے پر توجہ دی گئی ہے۔ اینڈرائیڈ رازداری پر توجہ دینے کے معاملے میں کچھ خاص مقبول نہیں تھا لیکن پچھلے سال اینڈرائیڈ  10 کی شروعات سے اور اب اینڈرائڈ 11 کے ساتھ، گوگل واقعی او ایس کے اس پہلو پر بھرپور توجہ مرکوز کررہا ہے۔

اگرچہ اینڈرائیڈ 11 نے ابھی تک تقریبا تمام بڑے اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز تک رسائی حاصل نہیں کی ہے، لیکن پھر بھی آپ ذیل میں دی گئی او ایس کی اعلی پرائیویسی پر مبنی خصوصیات کو چیک کرسکتے ہیں جو جلد ہی آپ کے ڈیوائسز پر آنے والا ہے۔

ایک وقت کی اجازت:

کسی ایپ کو اپنے مقام، مائکروفون یا کیمرہ تک مستقل رسائی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بجائے، اب آپ ان اجازتوں کے لئے ایپس کو صرف ایک وقتی رسائی فراہم کرسکتے ہیں۔ لہذا، اگلی بار جب آپ کوئی ایپ کھولیں جس کا استعمال آپ کم کرتے ہوں، تو آپ کو اس ایپ کو اپنے مقام یا کیمرہ تک مستقل رسائی دینے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ایک وقتی رسائی بالکل ٹھیک کام کرے گی۔

اجازتیں آٹو ری سیٹ کریں:

اگر آپ ایپ کو زیادہ وقت تک استعمال نہیں کرتے ہیں تو، اینڈرائیڈ  11 خود بخود اس کو دی جانے والی حساس اجازتوں کو ری سیٹ دے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کسی ایپ کو اپنے مقام یا مائکروفون تک رسائی فراہم کرتے ہیں لیکن پھر اگلے چند ہفتوں تک اسے استعمال نہیں کرتے ہیں تو، گوگل ایپ کو دی گئی تمام اجازتیں منسوخ کردے گا۔ اس طرح، آپ مطمئن ہوسکتے ہیں کہ آپ کے ڈیوائس پر موجود کوئی بھی ایپ خاموشی سے آپ کے مقام کا پتہ نہیں لگائے گی یا پس منظر میں آپ کی آواز ریکارڈ نہیں ہوگی۔

پس منظر کی جگہ تک رسائی:

اینڈرائیڈ 11 میں مقام کی اجازت کا نیا اشارہ اب مزید ایپلیکیشن کو مستقل مقام تک رسائی فراہم کرنے کا آپشن ظاہر نہیں کرے گا۔ اس کے بجائے، صارف تین اختیارات تک محدود رہیں گے: (1) ایپ استعمال کرتے وقت (2) صرف ابھی کے لئے، اور (3) انکار کریں۔ اگرچہ اب بھی صارفین کے پاس ایپس کو مستقل مقام تک رسائی دینے کا اختیار موجود ہے، جس کا آپشن اب سیٹنگز کے مینو میں منتقل کردیا گیا ہے۔ گوگل نے یہ تبدیلی اس لئے کی ہے تاکہ صارفین کو آسانی سے ایپس کو پس منظر میں ان کے مقام تک رسائی دینے سے روکا جاسکے۔ اور یہاں تک کہ جب آپ ایپ کے بیک گراؤنڈ لوکیشن تک رسائی دیتے ہیں تو گوگل آپ کو وقتا فوقتا ایک نوٹیفکیشن کے ساتھ اس کے بارے میں مطلع کرتا رہے گا، حالانکہ یہ وہ خصوصیت ہے جس نے پہلے اینڈرائیڈ  10 میں ڈیبیو کیا ہے۔

اسکوپڈ اسٹوریج:

یہ نام شاید دلچسپ نہیں لگتا ہے لیکن اسکوپڈ اسٹوریج، اینڈرائیڈ  11 میں رازداری اور سیکیورٹی سے متعلق ایک اہم تبدیلی ہے۔ اینڈرائیڈ 10 تک، اگر آپ ایپلی کیشن کو اسٹوریج تک رسائی دیتے ہیں تو، یہ آپ کے ڈیوائس کے پورے انٹرنل اسٹوریج تک رسائی حاصل کرلیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایپ اس میں موجود تمام فائلوں اور دستاویزات تک رسائی حاصل کرسکتی ہے۔ اسکوپڈ اسٹوریج کے ساتھ، گوگل ایک ایپ کو اپنے ڈیٹا فولڈر تک محدود کررہا ہے۔ اگر آپ کی ڈیوائس پر موجود دیگر فولڈروں تک ان کی رسائی اہم ہے تو بھی ایپس درخواست کرسکتی ہیں لیکن یہ ایسی تبدیلی ہے جس سے بہت سارے مشکوک ایپس کا خاتمہ ہوجائے گا۔

پروجیکٹ مین لائن:

گوگل نے اینڈرائیڈ 11 میں پروجیکٹ مین لائن پر مزید کام کیا ہے جس کی وجہ سے اب یہ خود کو پلے اسٹور کے ذریعہ اہم سیکیورٹی اپ ڈیٹس کو جاری کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ فی الحال، یہ اینڈرائیڈ او ای ایمز پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ڈیوائسز کیلئے حفاظتی پیچ کو انسٹال کریں اور کئی بار یہ کمپنیاں اس کام میں سست ہوجاتی ہیں یا اپنے پرانے ڈیوائسز کے لئے سیکورٹی اپ ڈیٹس جاری کرنا بند کر دیتی ہیں۔ اب اینڈرائیڈ 11 کے پروجیکٹ مین لائن میں بہتریوں کے ساتھ، گوگل کے پاس یہ اختیار موجود ہوگا کہ وہ براہ راست پلے اسٹور کے ذریعہ ڈیوائسز پر اہم حفاظتی اپ ڈیٹس کو انسٹال کردے۔

گوگل کی اینڈرائیڈ 11 میں متعارف کرائی جانے والی ان رازداری اور حفاظتی تبدیلیوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ گوگل کی جانب سے اینڈرائیڈ  کو زیادہ سے زیادہ رازدار اور محفوظ آپریٹنگ سسٹم بنانے کی سمت میں ایک صحیح قدم ہے؟

تبصرہ کریں

%d bloggers like this: