اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹِک ٹاک پر پابندی عائد کرنے پر پی ٹی اے اور آئی ٹی وزارت کو نوٹس بھیج دیئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن (ایم او ای ٹی) کو پاکستان میں مختصر ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فار ، ٹِک ٹاک پر پابندی عائد کرنے پر نوٹسز بھیجے ہیں۔

ٹِک ٹاک پر پابندی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس (سی جے) اسلام آباد ہائی کورٹ، اطہر من اللہ نے پی ٹی اے کے ایک سینئر عہدیدار کو بھی طلب کیا کہ وہ اس معاملے پر ٹیلی کام ریگولیٹر کے مؤقف کی وضاحت کرے۔

یہ پوچھ گچھ کرتے ہوئے کہ کیا پی ٹی اے نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹِک ٹاک پر پابندی عائد کردی ہے، اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو پی ٹی اے کو پورے پاکستان میں انٹرنیٹ رسائی بند کرنا ہوگی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی اے اہلکار کو عدالت کے پچھلے حکم کو نظرانداز کرنے کے لئے ریگولیٹر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا انتباہ دیا جس نے پی ٹی اے کو الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ (پی ای سی اے) 2016 کے تحت اختیارات کے استعمال سے متعلق اپنے قوانین کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔

سماعت کے اختتام پر، چیف جسٹس نے پی ٹی اے کو حکم دیا کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے باز رہیں اور اس کے ساتھ ہی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جولائی میں بھی پب جی (PUBG) پر پی ٹی اے کی پابندی کو منسوخ کردیا تھا۔

اس کے علاوہ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر شہزادہ ذوالفقار، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل (پی بی سی) عابد ساقی اور صحافیوں مظہر عباس اور جاوید جبار کو پی ٹی اے کی آن لائن پلیٹ فارم پر پابندی عائد کرنے کی کارروائی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی مدد کے لئے مقرر کیا۔ آزادی اظہار رائے، تقریر اور معلومات تک رسائی کے حقوق پر اس کے مضمرات 1973 کے آئین پاکستان میں درج ہیں۔

تبصرہ کریں