حکومت کا ٹوئیٹر ہینڈل کس طرح تمام میڈیا میں پھیلنے والی جعلی خبروں کی دھجیاں اڑا رہا ہے، ملاحظہ کریں۔

جعلی خبروں کے مسئلے نے حالیہ برسوں میں پوری دنیا کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور پاکستان بھی اس سے بچا ہوا نہیں ہے۔

پاکستانی حکومت اور اس کے اداروں سے متعلق جعلی خبروں کا مقابلہ کرنے کے لئے، وزارت اطلاعات و نشریات (ایم او آئی بی) نے اکتوبر 2018 میں ایک ٹوئیٹر اکاؤنٹ شروع کیا تھا۔

"FakeNewsBusterMoIB” کے عنوان سے، اکاؤنٹ میں غلط معلومات کے ساتھ سوشل میڈیا پوسٹس کی نشاندہی بھی کی جاتی ہے۔

اس اکاؤنٹ کی تشکیل کے پیچھے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا:

سوشل میڈیا کا مقصد معلومات، تعلیم اور علم کا اشتراک ہے۔ یہ حق پر مبنی ہونا چاہئے اور اونچے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے #فیک نیوز اور غلط معلومات کو نہیں پھیلانا چاہئے۔ بصورت دیگر، اس کی ساکھ ختم ہوجائے گی۔

ایم او آئی بی کے سائبر ونگ کے ڈائریکٹر جنرل، سوریہ جمال آغاز سے ہی FakeNewsBusterMoIB کی سربراہی کررہی ہیں۔

MoIB کے FakeNewsBuster کی ہر پوسٹ میں سرخ رنگ کا ایک بڑا "FAKE NEWS” کا لیبل لگا ہوتا ہے اور یہ بیان لکھا ہوتا ہے:

#فیک نیوز کو پھیلانا نہ صرف غیر اخلاقی اور غیرقانونی ہے بلکہ یہ قوم کے لئے ایک غداری بھی ہے۔ غیر ذمہ دارانہ سلوک کو مسترد کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ # فیک نیوز کو مسترد کریں۔

وہ صحافی جن کی کہانیوں کو جعلی خبروں کا لیبل لگایا گیا ہے، انھوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور یہ دعوی کیا ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو تنہا کرنے کے لئے فیک نیوزبسٹر کا استعمال کررہی ہے۔ حقیقت میں، صحافیوں سے جڑی ہوئی صرف چند کہانیوں کی ہی اس اکاؤنٹ میں نشاندہی کی گئی ہے اور جو کی گئی ہیں ان سے متعلقہ فریقین کو مناسب جواب دیا جاتا ہے۔

وزیر اعظم کے ڈیجیٹل میڈیا فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد اور وزیر اعلی پنجاب کے مشیر ڈیجیٹل میڈیا اظہر مشوانی نے صحافیوں کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے حقائق کو گھڑی ہوئی کہانیوں سے الگ کرنے کا عزم کیا ہے۔

ماخذ: عرب نیوز

تبصرہ کریں