آنے والی نسلوں کے لئے پاکستان کو سرسبز و شاداب اور صاف ستھرا بنائیے۔

پاکستان آئندہ نسلوں کی بہتری کے لئے ماحولیاتی تحفظ کو عملی جامہ پہنانے اور اس پر عمل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی خیبر پختون خوا (کے پی کے) میں اپنی بلین ٹری سونامی تحریک کی کامیابی کے بعد حال ہی میں ’10 ارب درخت سونامی کی تحریک’ شروع کی تھی۔

درخت لگانا اور اسی طرح کی نوعیت کے مزید اقدامات کے ساتھ، موجودہ شہریوں اور ہماری آنے والی نسلوں کو آلودگی سے پاک ماحول کے لئے ملک کو صاف ستھرا اور سرسبز و شاداب رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

درخت کسی بھی خطے کے ماحول، ماحولیات اور آب و ہوا کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ آسان الفاظ میں، درختوں کی تعداد پوری دنیا میں انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے براہ راست متناسب ہے۔ وہ کاربن سے بھرپور آلودگی کا مقابلہ کرتے ہیں، آکسیجن کی سطح کو معمول پر لاتے ہیں اور جانوروں کی افزائش کے لئے پودوں اور جنگلات کو بڑھانے میں مدد کرتے ہیں۔

یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم بحیثیت انسان، فطرت سے بہت متاثر ہوتے ہیں خصوصا درختوں اور پودوں سے گھرے ہوئے ماحول میں جب ہم تازہ ہوا میں سانس لیتے ہیں اور قدرت کی اس شان و شوکت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

پاکستان میں درختوں کی شجر کاری کی حالیہ تحریک نے مقامی کارپوریٹ سیکٹر کو بھی اس رجحان کی پیروی کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ابھی حال ہی میں پی ٹی سی ایل نے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات (ایم او آئی ٹی) سید امین الحق اور وفاقی سیکرٹری (ایم او آئی ٹی ٹی) اور پی ٹی سی ایل کے اعلی افراد کو اپنے اسلام آباد میں واقع ہیڈ کوارٹر میں درختوں کے پودے لگانے کی دعوت دی۔

پی ٹی سی ایل کا ہیڈ کوارٹر پاکستان کی چند سبز عمارتوں میں سے ایک ہے جسے ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیوڈبلیو ایف) نے تسلیم کیا ہے۔ مزید برآں، کلین اور گرین پاکستان کے رجحان کے بعد نیسلے پاکستان نے بھی کچھ دن قبل میٹرو پولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کو 5 ہزار درخت عطیہ کیے تھے۔

ہمیں ایسی مزید کمپنیوں کی ضرورت ہے جو آنے والے وقتوں میں آگے بڑھنے اور اس منصوبے میں حصہ ڈالنے کے لئے پاکستان کی فلاح و بہبود کے براہ راست اسٹیک ہولڈرز بنیں۔ نہ صرف کارپوریٹ سیکٹر کے بڑے نام جیسے پی ٹی سی ایل اور نیسلے (10 بلین ٹری سونامی تحریک کی حمایت کے ساتھ) اپنا کردار ادا کررہے ہیں، بلکہ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اس تحریک کو انفرادی سطح پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ ملک بھر کے لوگ پاکستان کے لئے شجرکاری میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

مقامی اور غیر ملکی ماحولیات کے ماہرین نے ‘گرین محرک’ پیکیج کی بھی تعریف کی ہے جس نے کووڈ-19 کے سبب حالیہ لاک ڈاؤن کے دوران روزانہ کی دھاڑی والے مزدوروں کی مدد کی تھی۔

پاکستان نے ایک بار پھر عالمی اثرات مرتب کیے ہیں حالانکہ اس ملک کو خود بھی مختلف چیلنجز ہیں۔ ماحولیاتی ماحول سے متعلق عالمی ایس ڈی جیز میں پاکستان نے بڑی دھوم مچائی ہے۔ حالانکہ 10 بلین درختوں کی سونامی کی تحریک 2023 تک جاری ہے لیکن ہم سب امید کرتے ہیں کہ ہم اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد بھی پائیدار اور ماحول دوست طرز زندگی کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے۔

آئیے ہم سب مل کر پاکستان کو صاف ستھرا اور سرسبز و شاداب بنائیں۔

ماخذ: پرو پاکستانی ڈاٹ پی کے

تبصرہ کریں