ویوو نے اپنی نئی اسمارٹ واچ اعلی خصوصیات اور سستی قیمت کے ساتھ لانچ کر دی۔

ویوو وی 20 ایس ای کے ساتھ ، چینی اسمارٹ فون OEM نے اپنی پہلی سمارٹ واچ بھی پریمیم ڈیزائن اور کچھ اعلی خصوصیات کے ساتھ لانچ کی ہے۔

ڈیزائن اور ڈسپلے:

ویوو کی اس اسمارٹ واچ کسی حد تک حال میں لانچ ہونے والی ژیاؤمی ہیلو سولر (Xiaomi Haylou Solar) کی طرح لگتی ہے۔ اس میں پتلی بیزلز کے ساتھ ایک دیدہ زیب ڈائل ہے۔

ویوو واچ فریم سائز اور ڈیزائن کی بنیاد پر دو مختلف ماڈلز میں آتی ہے۔ یہ 46 ملی میٹر اور 42 ملی میٹر ورژن میں دستیاب ہے۔ بڑے سائز کے ماڈل میں 1.39 انچ ایمولیڈ پینل کے ساتھ 454 × 454 پکسلز ریزولوشن کی اسکرین ہے۔ اس کے برعکس، چھوٹا ماڈل ایک 1.19 انچ ایمولیڈ اسکرین کے ساتھ 390 × 390 پکسلز ریزولوشن کا حامل ہے۔

یہ سٹینلیس سٹیل کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کی گئی ہے، جو کہ کمپنی کے مطابق عام ایلومینیم مرکب سے کہیں زیادہ سخت ہے اور روزانہ پہننے اور پسینے کی آسانی سے مزاحمت کرسکتا ہے۔ بیزلز بہت ہی خالص سیرامکس کا استعمال کرتے ہوئے بنائے گئے ہیں۔ ڈائل کو ناپا (Nappa) کے چمڑے کے پٹے یا فلوریلوسٹومر (Fluoroelastomer) پٹے سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔

دیگر خصوصیات:

اس اسمارٹ واچ میں چھ سینسر لگائے گئے ہیں جن میں بلڈ آکسیجن، ایکسلریومیٹر، ہوا کا دباؤ، جیو میگنیٹزم، ایمبیئینٹ لائٹ اور پوزیشننگ شامل ہیں۔ جہاں تک پوزیشننگ سسٹم سپورٹ کا تعلق ہے، گھڑی کو گھریلو بیڈو سمیت چار بڑے عالمی نظاموں کی حمایت حاصل ہے، جو عام ڈوئل سسٹم پوزیشننگ کے مقابلے میں زیادہ درست سمجھا جاتا ہے۔

Advertisements

یہ اسمارٹ واچ 11 اقسام کے کھیلوں کو مونیٹر کرسکتی ہے، جیسے آؤٹ ڈور دوڑ لگانا، سوئمنگ کرنا، سائیکل چلانا، پہاڑ چڑھنا وغیرہ اور میوزک پلے بیک، این ایف سی ٹریفک کارڈ، ایکسیس کارڈ اور جووی (JOVI) وائس اسسٹنٹ کی بھی حمایت کرتا ہے۔

بیٹری اور قیمتوں کا تعین:

اگرچہ کمپنی نے دونوں مختلف سائزوں کے لئے بیٹری کی صحیح گنجائش کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتایا ہے، لیکن 42 ملی میٹر ورژن کو عام استعمال کے لئے 9 دن کی درجہ بندی کی گئی ہے جبکہ 46 ملی میٹر بیٹری کی زندگی کو 18 دن تک ڈبل کردیتی ہے۔

ویوو کی دونوں گھڑیاں 191 ڈالرز کی قیمت کے ساتھ 28 ستمبر تک چین میں فروخت کے لئے دستیاب ہوں گی۔ اس کی عالمی دستیابی سے متعلق تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئیں ہیں۔

تبصرہ کریں

%d bloggers like this: