لیک نے انکشاف کیا ہے کہ مائیکروسافٹ نے اینڈرائیڈ پر مبنی سرفیس ڈؤو کو ونڈوز کور او ایس (Windows Core OS) ٹیم کی ناکامی کے خوف سے خفیہ طور پر تیار کیا تھا۔

مائیکروسافٹ اپنے سرفیس ڈؤو کے مارکیٹ میں اتنا تاخیر سے آنے کی وجہ کے لئے یہ بہانہ بنتا ہے کہ اتنے پیچیدہ ہارڈویئر کو مکمل طریقے سے قابل عمل بنانے میں بہت وقت لگا، لیکن بہت سے قارئین جانتے ہوںگے کہ مسئلہ اصل میں سافٹ ویئر تھا، خاص طور پر ونڈوز پر مبنی آپریٹنگ سسٹم کا۔

ونڈوز سینٹرل نے حال ہی میں شائع کردہ انکشاف میں پتہ چلا ہے کہ مائیکروسافٹ کا انڈرومیڈا او ایس (Andromeda OS) کی ڈولپمنٹ کے لئے اٹھائے گئے اقدام اتنی بری طرح سے ناکام ہوئے کہ مائیکروسافٹ نے خفیہ طور پر ہارڈ ویئر کے لئے اینڈرائیڈ پر مبنی آپریٹنگ سسٹم تیار کرنے کے لئے کسی دوسری بیرونی کمپنی کی خدمات حاصل کیں۔

ونڈوز سینٹرل نے انکشاف کیا کہ سرفیس ڈؤو کی تعمیر 2014 کے آخر اور 2015 کے اوائل میں شروع ہوئی اور یہ کہ یہ ڈیوائس ونڈوز سے چلنے والا کورئیر سے بہت زیادہ متاثر ایک ڈیوائس تھا، جس کی بنیاد ہوم اسکرین پر ڈیجیٹل قلم سے چـلنے والی ایک جرنلنگ ایپ تھی، لیکن جو اس کے باوجود ڈیسک ٹاپ جیسا تجربہ حاصل کرنے کے لئے مانیٹر سے منسلک ہوسکتا تھا۔

2016 میں دوہری اسکرین کے اینڈرومیڈا ڈیوائس پر کام کا آغاز ہوا اور مائیکروسافٹ نے ہلکا پھلکا، موروثیت سے پاک اور موافقت پذیر OS بنانے کا فیصلہ کیا جس کی بنیاد پر ونڈوز کور او ایس تیار کرنے کا فیصلہ ہوا۔ ونڈوز کور او ایس کو ڈیسک ٹاپ شیل کے لئے موافقت پذیر شیل (adaptable shell)، سی شیل (CShell) اور پولارس (Polaris) کے ساتھ جوڑا گیا تھا جو بعد میں ونڈوز 10 ایکس بن گئی۔

Advertisements

اینڈرومیڈا او ایس ایک پیج کی طرح کی جرنلنگ ایپ پر مبنی تھا جس کو جمدانی کہا (Jamdani) جاتا تھا، جو اس ڈیوائس کی ہوم اسکرین بھی ہونی تھی، جس میں صارف ورچوئل اسٹکی نوٹس، تصاویر اور فائلیں منسلک کرسکتے تھے اور ان پر تحریر کرسکتے تھے۔ یہ یقینا کورئیر کے تصور سے ملتا جلتا تھا۔ اس کے علاوہ کورٹانا (Cortana) کے ساتھ مربوط اسٹارٹ مینو اور ایکشن سینٹر بھی ہونا تھا۔

ونڈوز سینٹرل لکھتا ہے:

تاہم، یہ جلد ہی واضح ہوگیا کہ اس منصوبے کو بغیر کسی مسئلے کے تیار ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ ونڈوز کور اور شیل کے تجربات کو جدید اور ٹکڑوں میں بنانا آسان کام نہیں ہے اور یہ منصوبہ جلد ہی شیڈول سے پیچھے ہو جائے گا۔ ڈبلیو سی او ایس خود بھی انجینئروں اور جانچ کرنے والوں کے لئے کسی بھی حال میں 2017 تک جانچنے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔

یہ ڈیوائس موسم خزاں 2018 میں لانچ کرنا تھا، لیکن ڈبلیو سی نے بتایا کہ اس ڈیوائس کو مستقل مسائل اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا جو کسی کی گرفت میں نہیں آ سکے اور ہفتہ وار میٹنگوں میں سینئر لیڈرشپ ٹیم تھکتی چلی گئی اور بالآخر اس منصوبے کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔

سرفیس کی ٹیم تاہم کسی بھی صورت میں فون پر مبنی سرفیس ڈیوائس بیچنا چاہتی تھی اور سرفیس ڈؤو ریلیز کرنا چاہتی تھی۔

ڈبلیو سی مزید لکھتا ہے:

2018 کے آخر یا 2019 کے اوائل کے کسی مرحلے پر اینڈرومیڈا کو اینڈرائیڈ ڈیوائس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے کو بہت خاموشی سے راز میں رکھا گیا تاکہ جو لوگ ونڈوز ورژن پر کام کررہے تھے انہیں اندازہ نہ ہو کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

Advertisements

مائیکروسافٹ نے سرفیس ڈؤو او ایس بنانے کے لئے موویئل (Movial) کمپنی سے معاہدہ کیا اور ہارڈ ویئر کو دوبارہ استعمال کرنے کے لئے ونڈوز کے متعدد ڈرائیوروں کو اینڈرائیڈ پر پورٹ کیا۔ مائیکروسافٹ نے ہارڈ ویئر میں بھی کئی ایڈجسٹمنٹ کیں، بشمول بیرونی کیمرہ کو ہٹانا اور دھاتی شیل کی باڈی کی جگہ شیشے اور پلاسٹک سے بنی باڈی، جس کا نتیجہ آج ہم دیکھ رہے ہیں۔

اینڈرویمیڈا OS پر کام کرنے والے زیادہ تر انجینئر آخر کار ونڈوز 10 ایکس میں چلے گئے لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس پروجیکٹ کو بھی اتنی ہی برائی آئی۔

یہ بات بالکل صاف نظر آتی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی سافٹ ویئر کمپنی ہونے کے باوجود ابتدائی طور پر مائیکروسافٹ کی حد سے زیادہ خود اعتمادی ہی اس کی ناکامی تھی اور اس منصوبے کو حتمی طور پر بالآخر گوگل نے بچایا۔

کیا ہمارے قارئین سمجھتے ہیں کہ مائیکروسافٹ کو اپنے اینڈرومیڈا ڈیوائس کو عملی جامہ پہنانے کا کبھی موقع ملا؟ ہمیں نیچے کمنٹس میں بتائیں۔

تبصرہ کریں