پی ٹی اے کے نئے قواعد و ضوابط سے پاکستان میں اسمارٹ فون انڈسٹری کو مقامی بنانے میں مدد ملے گی۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اس ہفتے نئے ضوابط کا مسودہ جاری کردیا ہے جس کے تحت تمام فون کمپنیوں کو ملک میں کام کرنے سے قبل 10 سالہ خصوصی لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لائسنس سے پاکستان کو اسمارٹ فون کی مقامی صنعت بنانے میں مدد ملے گی۔

اس لائسنس کے حصے کے طور پر، فون کمپنیاں ملک کے اندر ہینڈسیٹ کے اجزا جوڑنا کرنا شروع کرسکتی ہیں، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انہیں مزید پاکستانی مواد کو اسمبلی کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اتبدا میں کمپنیوں کو صرف 2 فیصد پاکستان میں تیار کیے جانے والے پیکنگ میٹریل کو استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی۔

اگلے سال سے انہیں اپنی 10 فیصد بیٹریاں اور مدر بورڈز پاکستانی مواد کا استعمال کرتے ہوئے اور 8 فیصد ڈسپلے اور پلاسٹک کی باڈیز کو اسیمبل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

مزید برآں، اس لائسنس کے تحت کمپنیوں کو مقامی آپریٹرز کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ تین سال کے آپریشن کے بعد اپنے اسمارٹ فون کس طرح تیار کرے۔ اس میں انہیں چپ سیٹ ڈیزائن اور مدر بورڈز، ڈسپلے، فون لوازمات وغیرہ کی تیاری کے بارے میں تعلیم دینا شامل ہوگا۔

ٹیلی کام ریگولیٹر نے کہا ہے کہ اس کا مقصد پاکستان میں مقامی مینوفیکچرنگ اور اسمبلی کو فروغ دینا اور اسمارٹ فون اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریبا 40 سے 60 فیصڈ اسمارٹ فونز کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔

بلاشبہ پاکستان کو چین اور ویتنام جیسی مینوفیکچرنگ صنعتوں سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن وہ ٹیکس کی کم شرحوں کے ساتھ بڑی کمپنیوں کو راغب کرنے کی امید کرتا ہے۔ ابھی تک کسی بڑی کمپنی نے پاکستان میں فیکٹریاں بنانے کے بارے میں اپنے ارادے کا اظہار نہیں کیا ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ سام سنگ جلد ہی ایک اسمبلی پلانٹ کھولنے کا ارادہ کرے۔

تبصرہ کریں