وعدے کے مطابق ویوو نے بالآخر ڈسپلے میں سرایت کردہ فنگر پرنٹ اسکینر کے ساتھ اپنے پہلے اسمارٹ فون سے پردہ اٹھا دیا۔ ویوو نے آج ایک پریس ریلیز جاری کیا ہے جس میں بنیادی طور پر اس فون کا اعلان کیا ہے اور اس میں انڈر ڈسپلے فنگر پرنٹ اسکینر کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ ویوو اس ڈیوائس کی دیگر تفصیلات کے بارے میں فی الحال خاموشی اختیار کیا ہوا ہے اور صرف اس کے فنگر پرنٹ ریڈر کے فوائد پر زور دے رہا ہے۔ جس میں سب سے پہلے یہ کہ یہ فنگر پرنٹ ریڈر سامنے کی طرف ہے اور دوسرا یہ کہ اس کی وجہ سے اس فون کے ڈسپلے کے کنارے انتہائی پتلے اور نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہ دونوں خصوصیات اس وقت کی سب سے بہترین خصوصیات ہیں۔

اس کے پیچھے کام کرنے والی ٹیکنالوجی کی تفصیلات ہم اپنے پچھلے آرٹیکل میں بیان کر چکے ہیں۔ ویوو کی طرف سے جاری کی گئی (آرٹیکل کے آخر میں موجود) وڈیو میں آپ مزید دیکھ سکتے ہیں کہ ویوو نے کس طرح Synaptics Clear ID FS9500 سینسر کا استعمال کیا ہے جو ایک مطابقت پذیر انٹرفیس کی مدد سے اسی وقت روشن ہوتا ہے جب اس کو انگلی کو اسکین کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن باقاعدگی سے فون کے عام استعمال پر اس کی موجودگی کا احساس تک نہیں ہوتا۔ ڈسپلے اسکرین کے انٹرفیس پر انگلی کے پرنٹ کا نشان اسی وقت ابھرتا ہے جب آپ کو اپنے فون کو غیر مقفل کرنے، محفوظ مواد تک رسائی حاصل کرنے یا موبائل سے رقوم کی ادائیگی کے لئے بائیومیٹرک کی تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ اپنی ڈسپلے اسکرین پر دیکھ کر واقعی یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہاں OLED ڈسپلے کے نیچے کچھ ہے۔

ایک بہت ہی شاندار ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے میں ویوو بازی لے گیا ہے اور اب صرف ایک ہی چیز باقی ہے کہ وہ سال کے اوائل میں فون کی دستیابی کے اعلان سے پہلے اس ڈیوائس کو کیا نام دے گا اور اس فون کی دیگر تفصیلات اور قیمتوں کے تعین کے بارے میں مزید تفصیلات کب فراہم کرے گا۔ کیا یہ فنگر پرنٹ ریڈر اسکرین پروٹیکٹر لگنے کے بعد بھی کام کرے گا؟ اس بارے میں مزید تفصیلات کا ہمیں انتظار رہے گا۔

Advertisements